کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز: 15 سال نے مجھے کیا سکھایا
کرکٹ میں گیارہ فیلڈرز کو تین حصوں میں بانٹ کر دیکھا جاتا ہے: وکٹ کیپر اور سلپ کی قریبی لائن، اندرونی دائرے (تیس گز کے سرکل کے اندر) کے فیلڈرز، اور باؤنڈری پر کھڑے گہرے فیلڈرز۔ کھیل کا میدان کے مطابق صحیح پوزیشن تین چیزوں سے طے ہوتی ہے: باؤلر کی قسم، بلے باز کا ہاتھ اور میچ کا فارمیٹ۔ ٹیسٹ میں بنیادی پابندی یہ ہے کہ لیگ سائیڈ پر پوپنگ کریز کے پیچھے وکٹ کیپر کے علاوہ دو سے زیادہ فیلڈر نہیں ہو سکتے۔ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے چھ اوورز کے دوران صرف دو فیلڈر سرکل سے باہر رہ سکتے ہیں، پھر پانچ۔ ون ڈے میں پہلے دس اوورز میں دو، گیارہ سے چالیس میں چار اور آخری دس اوورز میں پانچ۔ عملی مشورہ: میچ سے پہلے اپنے ہر باؤلر کی تین بنیادی لائنیں لکھیں اور ہر لائن کے لیے ایک طے شدہ نقشہ بنائیں۔
"کیچ میچ جتواتے ہیں۔" یہ جملہ ہر کلب کی دیوار پر لکھا ملتا ہے۔ میں نے اسے پندرہ سال پہلے مذاق سمجھا تھا۔ پھر ایک فائنل میں سلپ کے غلط فاصلے کی وجہ سے دو آسان کیچ زمین پر گرے اور ٹرافی چلی گئی۔ اس دن کے بعد میں نے فیلڈ سیٹنگ کو قسمت پر چھوڑنا بند کر دیا۔ میں اب بھی پرانے انداز سے چلتا ہوں: ہر باؤلر کے لیے کاغذ پر نقشہ، ہر اوور کے بعد اس کا جائزہ۔ لوگ کہتے ہیں یہ پرانی سوچ ہے۔ یقین کریں یا نہ کریں، میں کرتا ہوں۔ یہ گائیڈ پانچ مرحلوں اور ایک خرابی دور کرنے والے حصے میں ہے۔ ہر مرحلہ وہی ہے جو میں نے ہارنے کے بعد سیکھا۔ جو بات ہر ویب سائٹ دہراتی ہے، اسے میں نے مختصر رکھا ہے۔ جو بات کم لوگ بتاتے ہیں، وہ تفصیل سے لکھی ہے۔
میچ کے جائزے اور حکمت عملی کی مزید گہرائی کے لیے ہمارے پڑھنے والے یہاں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
پہلا مرحلہ: سلپ اور وکٹ کیپر کی لائن کیسے سیٹ کریں؟
سلپ کی لائن وکٹ کیپر کے دائیں طرف، تیز باؤلر کے لیے قریباً کیپر سے ڈیڑھ سے دو میٹر پیچھے ترچھی لگتی ہے۔ پہلی سلپ کیپر کے قریب اور باقی ایک ایک قدم پیچھے رکھیں۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے سلپ آف سائیڈ پر ہوتی ہے۔
یہاں سب سے بڑی غلطی فاصلہ ہے۔ فاصلہ باؤلر کی رفتار اور پچ کی اچھال سے طے ہوتا ہے، نام یا روایت سے نہیں۔ جب پچ دھیمی ہو تو گیند سلپ تک پہنچتے پہنچتے مر جاتی ہے، اس لیے قدم آگے لائیں۔ جب گیند اچھلتی ہو تو قدم پیچھے ہٹائیں۔ اس کا آسان امتحان یہ ہے: وکٹ کیپر کے ہاتھ میں گیند کتنی اونچائی پر پہنچ رہی ہے؟ اگر کیپر کمر سے نیچے کیچ لے رہا ہے تو سلپ زمین پر گرے کیچ لے گی، اس لیے ایک قدم آگے آئیں۔ ایک اور بات: وکٹ کیپر کی فیلڈنگ کے بارے میں Wikipedia کی تفصیل بتاتی ہے کہ قریبی فیلڈرز کا کام بلے کے کنارے سے نکلی گیند پکڑنا ہے۔ اسی لیے کیپر اور پہلی سلپ کے درمیان ایک خالی جگہ کبھی نہ چھوڑیں۔ اس خالی جگہ میں گیند گرنے کا مطلب ہے دو کھلاڑی ایک دوسرے کو دیکھتے رہ جائیں گے۔
- پہلی سلپ: کیپر کے بالکل قریب، گیند کی سمت کا پہلا فیصلہ ساتھ ساتھ
- دوسری سلپ: کیپر کی پہلی سلپ سے ایک قدم پیچھے اور قدرے چوڑی
- گلی: سلپ اور پوائنٹ کے بیچ، کٹ شاٹس کے لیے
بیٹنگ اور باؤلنگ کی حکمت عملی
جب آپ کو اپنی ٹیم کی پوزیشنوں پر مزید مدد درکار ہو تو اگلا حوالہ دیکھیں۔
دوسرا مرحلہ: آف سائیڈ کا اندرونی حلقہ کیسے بنائیں؟
آف سائیڈ کے اندرونی حلقے میں پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور اور مڈ آف آتے ہیں۔ یہ چاروں بلے باز کے ڈرائیو اور کٹ کے راستے بند کرتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے یہ آف سائیڈ ہے، بائیں ہاتھ والے کے لیے پورا نقشہ الٹ جاتا ہے۔ نئی گیند پر کور اور پوائنٹ ذرا گہرے رکھیں۔
میرا اصول سادہ ہے: ڈرائیو کے راستے پر ایک فیلڈر ہمیشہ "رن روکنے والا" ہو اور دوسرا "کیچ پکڑنے والا"۔ اگر دونوں ایک ہی کام کریں تو درمیان میں خالی جگہ نکل آتی ہے۔ نئی گیند پر بلے باز اکثر آف سائیڈ پر کھل کر کھیلتا ہے، اس لیے کور اور پوائنٹ دونوں قدرے گہرے رکھ کر ایک سنگل کی رعایت دینا مجھے بہتر لگتا ہے۔ یہ بات اکثر لوگوں کو عجیب لگتی ہے۔ میں نے ہر بار یہ نقشہ آزمایا ہے: بلے باز سنگل لیتا ہے، مگر فیلڈنگ ٹیم باؤنڈری کا خطرہ کم کر دیتی ہے۔ PSL کوریج اور میچ کے جائزے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بڑی ٹیمیں بھی پاور پلے کے بعد اسی منطق پر چلتی ہیں۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے آنے پر نقشہ الٹنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ میں ہر فیلڈر کو بتاتا ہوں کہ اس کا نیا ہدف "میری دائیں طرف" نہیں بلکہ "بلے باز کی آف سائیڈ" ہے۔
تیسرا مرحلہ: لیگ سائیڈ پر دو فیلڈر کی حد کیسے سنبھالیں؟
لیگ سائیڈ پر پوپنگ کریز کے پیچھے وکٹ کیپر کے علاوہ زیادہ سے زیادہ دو فیلڈر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے فائن لیگ، لیگ سلپ اور ڈیپ اسکوائر لیگ میں سے آپ صرف دو چن سکتے ہیں۔ تیسرا رکھنا ممنوع ہے، اور امپائر کے لیے یہ باقاعدہ خلاف ورزی ہے۔
اس قانون کا ذکر MCC کے کرکٹ قوانین میں ملتا ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں نئے کپتان سب سے زیادہ پھنستے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فائن لیگ اور اسکوائر لیگ لگائے، پھر باؤلر کے کہنے پر لیگ گلی بھی کھڑی کر دی۔ اب تین ہو گئے۔ امپائر پہلی بار سمجھانے آئے گا، دوسری بار گیند ضائع ہوگی۔ حد گنتی فیلڈر کی جگہ سے ہوتی ہے، گیند کے چھوڑنے کے لمحے، نہ کہ اس کے بعد دوڑنے سے۔ ایک عملی ترکیب: لیگ سائیڈ کی دونوں پوزیشنیں اوور کے آغاز میں زبانی بول کر امپائر کو بتا دیں۔ اس سے ہر گیند پر بحث ختم ہو جاتی ہے۔ لیگ کی پوزیشن بدلنی ہو تو پہلے ایک فیلڈر کو آگے بھیجیں، پھر دوسرے کو پیچھے۔
مزید تکنیکی سیٹ اپ دیکھنے کے لیے ہمارے گائیڈ کا اگلا حصہ نظر انداز نہ کریں۔
چوتھا مرحلہ: ڈیپ فیلڈرز اور سرکل کی پابندیاں کیسے لگائیں؟
ڈیپ فیلڈرز باؤنڈری کے قریب کھڑے ہوتے ہیں اور ان کی تعداد فارمیٹ طے کرتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے چھ اوورز میں دو اور بعد میں پانچ فیلڈر تیس گز کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ ون ڈے میں یہ تعداد دو، چار اور پانچ ہے۔
ڈیپ کی پوزیشنیں چار بنیادی ہیں: لانگ آن، لانگ آف، ڈیپ مڈ وکٹ اور تھرڈ مین۔ پانچ ہوں تو ڈیپ کور یا فائن لیگ شامل کریں۔ اب وہ نکتہ جو زیادہ تر مضامین نہیں بتاتے: ICC کے موجودہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل قواعد کے مطابق اگر باؤلنگ ٹیم آخری اوور شروع کرنے کے مقررہ وقت سے پیچھے ہو تو باقی اوورز میں ایک فیلڈر کم سرکل سے باہر رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ یعنی سست اوور ریٹ آپ کی ڈیپ کی تعداد گھٹا دیتا ہے۔ تفصیل ICC کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ میں نے اسی لیے اپنی ٹیم کو سکھایا کہ آخری اوورز کا وقت اوور ریٹ سے پہلے بچائیں۔ ایک اور بات: پابندی توڑنے پر امپائر نو بال دیتا ہے۔ اسے ہلکا مت لیں۔ ایک نو بال اور فری ہٹ آخری اوور کا نقشہ بدل دیتی ہے۔
| فارمیٹ | مرحلہ | سرکل سے باہر زیادہ سے زیادہ |
|---|---|---|
| ٹی ٹوئنٹی | اوورز 1 سے 6 | 2 |
| ٹی ٹوئنٹی | اوورز 7 سے 20 | 5 |
| ون ڈے | اوورز 1 سے 10 | 2 |
| ون ڈے | اوورز 11 سے 40 | 4 |
| ون ڈے | اوورز 41 سے 50 | 5 |
پانچواں مرحلہ: تصدیق — آپ کا نقشہ کام کر رہا ہے یا نہیں؟
تصدیق کا مطلب ہے میچ کے بعد اسکور کارڈ کھول کر دیکھنا کہ آپ کے نقشے نے کتنے کیچ بنائے۔ "ct" کالم کیچ دکھاتا ہے، اور آؤٹ ہونے والے کے سامنے فیلڈر کا نام ہوتا ہے۔ تین میچوں میں ایک ہی پوزیشن سے کوئی کیچ نہ آئے تو وہ جگہ بیکار ہے۔
ایک مثال دیکھیں۔ ESPN کے اسکور کارڈ میں افغانستان اے بمقابلہ انڈیا اے کے دوسرے میچ میں پربھسمرن سنگھ 84 رنز پر آؤٹ ہوئے، جب اسکور 167 پر تین وکٹ تھا۔ آف بریک لیگ سائیڈ کی طرف مڑ رہی تھی، انہوں نے پیڈل اسکوپ کھیلنا چاہا اور گیند ہلکی سی لگ کر وکٹ کیپر کے ہاتھ میں گئی۔ یہ کیچ پوزیشن کا فیصلہ نہیں تھا، یہ کیپر کی اپنی جگہ اور اسپنر کی لائن کا نتیجہ تھا۔ اس سے مجھے یہ سبق ملا کہ اسپنر کے ساتھ اسٹمپ کے قریب کیپر کا فاصلہ ہی سب سے بڑا "فیلڈر" ہوتا ہے۔ اسی لیے میں ہر میچ کے بعد ایک سادہ جدول بناتا ہوں: کیچ، گرائے ہوئے کیچ، بچائے گئے رنز، اور فیلڈر کی جگہ۔ اسکور کارڈ پڑھنے کی مکمل رہنمائی میں اس کا طریقہ تفصیل سے لکھا ہے۔ پانچ میچوں کے بعد یہ جدول بتا دیتا ہے کہ کون سی پوزیشن بار بار گیند دیکھتی ہے اور کون سی خالی رہتی ہے۔
- میچ کے فوراً بعد اسکور کارڈ میں "ct" اور "c & b" کے اندراجات گنیں۔
- ہر کیچ کے ساتھ فیلڈر کی پوزیشن لکھیں۔
- گرائے گئے کیچوں کو الگ لکھیں، ان کی جگہ بھی۔
- اگلے میچ میں خالی پوزیشن ہٹا کر وہ فیلڈر دوسری جگہ لگائیں۔
عام غلطیاں اور ان کا حل
سب سے عام غلطی ہے ایک ہی نقشہ ہر باؤلر کے لیے رکھنا۔ اس کا حل ہے ہر باؤلر کی تین لائنیں طے کرنا: آف اسٹمپ کے باہر، اسٹمپ پر، اور لیگ کی طرف۔ ہر لائن کا الگ نقشہ بنائیں، ورنہ بلے باز دو اوورز میں آپ کی کمزور جگہ پکڑ لے گا۔ دوسری غلطی سلپ کا غلط فاصلہ ہے، جس کا حل پہلے مرحلے میں دیا گیا۔
تیسری غلطی لیگ سائیڈ پر تین فیلڈر کھڑے کر دینا ہے، جس کی وجہ سے نو بال یا وارننگ ملتی ہے۔ چوتھی غلطی بائیں ہاتھ کے بلے باز کے آنے پر نقشہ الٹنے میں تاخیر ہے۔ پانچویں غلطی یہ ہے کہ تھکے ہوئے کھلاڑی کو ڈیپ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ میں ہر پانچ اوورز بعد ڈیپ کے فیلڈر بدل دیتا ہوں، اور اس کا فائدہ مجھے واضح نظر آیا۔ اگر آپ کے میچ میں بار بار گیند فیلڈرز کے درمیان گرتی ہے تو شاید مسئلہ فاصلہ ہے، تعداد نہیں۔ آخر میں یہ یاد رکھیں کہ فیلڈنگ خود اعتمادی کا کھیل بھی ہے۔ ایک کھلاڑی کو بتائیں کہ یہ اس کی جگہ کیوں ہے، تو وہ آنکھ بند کر کے بھی گیند کی طرف بڑھے گا۔
نتیجہ
فیلڈنگ پوزیشنز یاد کرنے کی چیز نہیں، ہر گیند سے پہلے دوبارہ سوچنے کی چیز ہیں۔ سلپ کا فاصلہ، آف سائیڈ کا حلقہ، لیگ کی دو کی حد، ڈیپ کی تعداد اور میچ کے بعد کا جائزہ، یہ پانچ قدم ہیں۔ کھیل کا میدان پر ہم روزانہ میچ کے جائزے اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار انہی اصولوں سے دیکھتے ہیں۔ اپنے اگلے میچ سے پہلے ایک کاغذ لیں، تین نقشے بنائیں، اور ایک بار پھر جانچیں کہ لیگ سائیڈ پر دو سے زیادہ فیلڈر تو نہیں۔ میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی گائیڈ بھی ساتھ رکھیں۔
آج ہی اگلا قدم اٹھائیں اور اپنی کرکٹ معلومات کو مکمل کریں۔
Frequently Asked Questions
Q: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کیا ہوتی ہیں؟
A: فیلڈنگ پوزیشنز میدان میں وہ مقررہ جگہیں ہیں جہاں گیارہ میں سے نو فیلڈرز (باؤلر اور وکٹ کیپر کے علاوہ) بلے باز کے شاٹس روکنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے نام گیند کے راستے اور بلے باز سے سمت کے مطابق رکھے گئے ہیں، جیسے سلپ، پوائنٹ، کور، مڈ آف اور فائن لیگ۔ کپتان ہر باؤلر اور بلے باز کے مطابق انہیں بدلتا رہتا ہے۔
Q: ٹی ٹوئنٹی میں سرکل سے باہر کتنے فیلڈر رکھ سکتے ہیں؟
A: پہلے چھ اوورز میں دو اور باقی اوورز میں پانچ فیلڈر تیس گز کے دائرے سے باہر رکھے جا سکتے ہیں۔ پاور پلے ختم ہوتے ہی بلے باز بڑے شاٹس کھیلتے ہیں، اس لیے بیشتر کپتان ساتویں اوور میں فوراً ڈیپ مڈ وکٹ اور لانگ آن کو ڈیپ لگاتے ہیں۔ اس تعداد سے زیادہ فیلڈر باہر رکھنے پر نو بال دی جاتی ہے۔
Q: ٹیسٹ اور ون ڈے میں فیلڈنگ سیٹ کرنے میں کیا فرق ہے؟
A: ٹیسٹ میں سرکل کی کوئی پابندی نہیں، جبکہ ون ڈے میں پاور پلے کے مطابق سرکل سے باہر فیلڈر محدود ہیں۔ ٹیسٹ میں آپ تین سلپ اور دو گلی تک کھڑی کر کے وکٹ لینے پر زور دے سکتے ہیں، ون ڈے میں رنز بچانے اور وکٹ لینے میں توازن رکھنا پڑتا ہے۔ دونوں میں لیگ سائیڈ پر دو کی حد برقرار رہتی ہے۔
Q: سلپ فیلڈر کو کہاں کھڑا ہونا چاہیے؟
A: سلپ فیلڈر کو وکٹ کیپر کے دائیں طرف، گیند کے کنارے لگ کر آنے کے راستے میں کھڑا ہونا چاہیے۔ پہلی سلپ کیپر کے قریب اور بعد والی ایک ایک قدم پیچھے ہوتی ہے۔ اگر کیپر کے ہاتھ میں گیند کمر سے نیچے آ رہی ہو تو سلپ کو قدم آگے لانا چاہیے، ورنہ گیند زمین پر گرے گی۔
Q: میرے فیلڈرز بار بار کیچ کیوں چھوڑتے ہیں؟
A: عام وجوہات غلط فاصلہ، تھکاوٹ اور واضح کردار کی کمی ہیں۔ سب سے پہلے سلپ کا فاصلہ پچ کی اچھال کے مطابق درست کریں۔ پھر ہر پانچ اوورز بعد ڈیپ کے فیلڈر بدلیں اور ہر کیچ کے لیے طے کریں کہ پکارنے کا حق کس کا ہے۔ ہفتے میں دو بار اونچے کیچ کی مشق کرنے سے گرنے والے کیچ نمایاں کم ہو جاتے ہیں۔
Q: کیا بائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے نقشہ الٹنا ضروری ہے؟
A: جی ہاں، آف اور لیگ سائیڈ بلے باز کے ہاتھ کے مطابق بدل جاتی ہیں، اس لیے پورا نقشہ آئینے کی طرح الٹ جاتا ہے۔ سلپ اب بھی کیپر کے اسی طرف رہتی ہے جہاں گیند کے کنارے لگنے کا امکان زیادہ ہو، یعنی بلے باز کی آف سائیڈ۔ نئے بلے باز کے آنے سے پہلے فیلڈرز کو بتا دیں کہ ان کی جگہیں کیا ہوں گی۔